Translate

Sunday, 27 November 2016

جاگیردارانہ سوچ اور ہم

سنتے آئے ہیں کہ جب سقراط زہر کا پیالہ پی چکا تو اس کے شاگرد کریٹو نے پوچھا "اے استاد! بتا ہم تیری تجہیز و تکفین کن رسموں کے مطابق ادا کریں؟" "میری تجہیز و تکفین؟ " سقراط ہنسا اور پھر سنجیدہ ہو کر کہنے لگا، "کریٹو! میں نے تمام لوگوں کو تمام عمر سمجھایا کہ الفاظ کو انکے صحیح معنوں میں استعمال کیا کرو، لگتا ہے تمھیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے یاد رکھو الفاظ کا غلط استعمال سب سے بڑا گناہ ہے۔"


بدقسمتی سے ہماری زبان میں کچھ الفاظ اپنے صحیح معنوں میں استعمال ہونے کے بجائے غلط معنوں میں استعمال کئے جاتے ہیں جیسے لفظ "کمین" کو ہی لے لیجئے کمین ہمارے معاشرے میں گالی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حقارت اور زلالت کا استعارہ یہ لفظ بعض اوقات گالی کی صورت بھی استعمال ہوتا آیا ہے۔ کمینہ کمینگی جیسے الفاظ کسی انسان کی خصلت کو بیان کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ لفظ کمین کا ماخز کمی ہے جس کا مطلب محنت کرنے والا ہوتا ہے۔ اب اس کو جاگیردارانہ سوچ کے اثرات کہئے یا سرمایہ دارانہ توسیع پسندی کا ہتھیار، ہم نے محنت کرنے والے کو محنت نہ کرنے والوں سے ممتاز کرنے کے بجائے اس کو حقیر و ادنی بنا دیا۔



الفاظ کے غلط استعمال کے گناہ میں ہم نے خود کو خوساختہ پیمانوں مقید کر لیا اور گناہ در گناہ در گناہ کے مستقل مرتکب ہوئے جا رہے ہیں۔
ہماری زبان میں لفظ "شریف" کا استعمال کردار کی ایک خوبی اور وصف ہوتا ہے یعنی جب کہا جائے کہ فلاں شخص شریف ہے تو مطلب یوں نکلتا ہے کہ اس شخص کا کردار انتہائ نیک اور پاکباز ہے لیکن اگر اس لفظ کے ماخز کو دیکھا جائے تو پتہ چلے کہ لفظ شریف شرف سے نکلا ہے جس کی جمع اشراف ہوا کرتی ہے۔ یہ لفظ عموما امراء، والیوں اور شہزادوں کے لئے استعمال ہوتا تھا اور فی زمانہ شریف اور اشراف وہ لوگ ہوئے جو امیر دولت مند یا صاحب اقتدار ہوئے۔
تو طے یہ پایا کہ شرافت وہ خوبی اور وصف ہے جس کے حامل معاشرے کا حکمران طبقہ یا جاگیردار ٹہرے اور آگے چلتے ہیں۔ لفظ آتا ہے "معزز" جس کا ماخز ہے عز جس کے معنی طاقت و قوت ہیں یہ لفظ بھی معاشرے میں با اثر اور صاحب اقتدار طبقے کے ایک وصف کو ظاہر کرتا ہے یعنی شریف و معزز وہ ٹہرے جو صاحب اقتدار و قوت ہوں جبکہ کمی اور کمین وہ ٹہرے جو صاحب اقتدار اور صاحب قوت افراد کی یا طبقے کی قوت و قتدار میں اضافے کے لئے دن رات اپنا خون پسینہ ایک کریں۔


ستم بالائے ستم دیکھئے کہ معاشرے میں محنت کرنے والے افراد کو وفاداری، اطاعت گزاری، جانثاری اور ایثار کی قدروں سے بلیک میل کیا جاتا ہے کہ اگر آقا کی اطاعت گزاری اور وفا شعاری میں کوئ کمی آ گئ تو وہ نمک حرامی تصور کی جائے گی اور اگر آقا کی قوت و اختیار میں اضافے کے لئے جانثاری کا مظاہرہ کیا جائے تو وہ نمک حلالی
تصور کی جائے گی۔


کیا آپ کو نہیں لگتا کہ معاشرتی نظام میں مساوات کی دھجیاں اڑانے میں ان الفاظ کے استعمال نے کلیدی کردار ادا کیا ہے؟


کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آقا، مالک، غلام جیسے الفاظ صرف اور صرف استحصال کے لئے ایجاد کئے گئے ہیں اگر ہم ان الفاظ کے غلط استعمال جھونجھل سے خود کو آزاد کرا لیں تو ہمارے معاشرے کی طبقاتی تقسیم کافی حد تک دور ہو سکتی ہے۔

سقراط نے صحیح کہا کہ الفاظ کا غلط استعمال گناہ ہے اور ہم اس گناہ عظیم میں مبتلا ہیں۔


ہم میں اکثریت نےذہنی طور پر ناصرف اس طبقاتی تقسیم کو قبول کیا ہوا ہے بلکہ ہم میں سے ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس اقلیتی طبقے کا رکن بن جائے اور یہی اس کی زندگی کی معراج ہوتی ہے۔


عام سے خاص تک، ادنی سے اعلی تک، اسفل سے افضل تک، کمتر سے برتر تک، رزیل سے شریف تک، حقیر سے
معزز تک، غریب سے امیر تک اور مجہول سے خاندانی تک پہنچنا ہماری زندگی کی طبقاتی جدو جہد ہمارا مقصد حیات بن
جاتا ہے۔

کہیں پڑھا تھا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ

میں ابتدا میں روئ دھنے والا تھاپھر شیخ بن گیا
اگر اناج سستا ہو گیا تو میں اس سال سید بن جاونگا۔

ذات پات، نسل، خاندان ،شریف خون اور خون کی پاکیزگی جیسے الفاظ کو فروغ دینے میں ہمارے ادب کا بھی بہت اہم کردار ہے



میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم کب تک اس گناہ کا کفارہ ادا کریں گے؟ ہم۔کیونکر اس گناہ کا کفارہ ادا کریں گے؟


میں اکثر سوچتا ہوں اور سوچتا ہی رہ جاتا ہوں

Sunday, 22 May 2016

یہ جمود زندگی- یہ بقا کے مرحلے

ایک عرصے سے سوچ منجمد اور قلم ساکت ہے، غم روزگار نے کچھ ایسا فکری جمود طاری کردیا کہ جیسے فکر کے تمام سوتے خشک ہو گئے ہوں، میں خود پر غور کرتا ہوں تو جھنجھلا جاتا ہوں کہ یہ فکری بانجھ پن کیونکر وجود میں آیا۔ ذہن کے الجھاو کو دور کرنے کے واسطے آج قلم کی پوری طاقت استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس گھمبیر
صورت حل کا کوئی حل نکال سکوں ورنہ میرا معنوی وجود اختتام کے قریب نظر آرہا ہے۔

مادیت کے الجھاو نے روح کو سن کر دیا ہے، آج قلم کو زنگ آلود ہوئے مدت گزر گئی، قلم کو زندگی آلود کرنے کے 
واسطے آج اسے دوبارہ نئی و تازہ قوت دینی پڑے گی، گرد و پیش کو دوبارہ محسوس کرکے ان احساسات کو اتنی حدت فراہم کرنی پڑے گی کہ روح پر موجود تمام برف پگھل جائے ، اور زندگی کی یخ بستگتی میں کچھ تو حرارت پیدا ہو ورنہ اس جینے کے ہاتھوں ہم تو مر چلے۔ انسان کے احساسات کی کانات گر اک بار اس سے چھن جائے تو وہ ایسا جمود یافتہ بت بن جاتا ہے جسے گر و پیش کی کوئی خبر نہیں رہتی، کون ، کہاں، کس حال میں ہے اسے فرق نہیں پڑتا، وہ خود کہاں، کس حال میں ہے اسے تو اس سے بھی فرق نہیں پڑتا، وہ بے حس و حرکت ہوش و خرد سے انجان رہنے لگتا ہے، یہ کیفیت زندگی کی نہیں موت کی کیفیت ہوتی ہے، بقا نہیں فنا کی، ہستی کی نہیں عدم کی کیفیت ہوتی ہے اس واسطے زندہ انسان کو اسے قبولنے میں ہمیشہ تردد ہوتا ہے وہ کسی لمحے چونک پڑتا ہے، دھیرے دھیرے مشاہدہ شروع کر دیتا ہے۔ یہ مشاہدہ احساسات میں تحرک کا باعث بنتا ہے ، تحرک زندگی کی گرمی کو جنم دیتا ہے اور جمود کا بت توڑ دیتا ہے۔
آج ایسا لگتا ہے جیسے میرے جمود کی یخ بستہ چٹانیں بھی پگھل رہی ہیں، سرکش ہوائیں طوفان کی آمد کا پتا دے رہی ہیں، زندگی کا تعطل دور ہونے کو ہے، ہاں میں سوچ رہا ہوں، ہاں میرا قلم لکھ رہا ہے، ہاں زندگی برف کی سلوں سے گرم پانیوں کی جانب سرکنے لگی ہے، ہاں میں بے ربطگی سے جانب ربط چلنے کو ہوں۔

لکھنے والا جب معاشرے کی گھٹن آلود فضا میں جمود کا شکار ہوتا ہے تو دنیا اندھیر ہوجاتی ہے، ایسا اندھیرا کہ جس کے بھیانک گوشوں میں انسان سسکتا نظر آئے اور انسانیت بے حال، آج ایسا ہی کوئی پر آشوب دور ہے، جہاں شر و فتن اپنے مکروہ چہرے کے ساتھ لکھاریوں کو معتوب، حق پرستوں کو مجزوب، اور فکری کاوشوں کو رقص ابلیس سے زیر کرنے پر تلا ہے۔

آج آدمیت منہ چھپائے شرم و حیا کا ماتم کر رہی ہے تو انسان خوب و بد، خیر و شر اور عدل و ظلم کے دوراہے پر ششدر
 کھڑا ہے کہ جائے تو جائے کہاں؟ مستقبل بے یقینی کے ایک دیو کی صورت اسے خوفزدہ و ہراساں کر رہا ہے، آج انسان کو ایسے حق شناس کی تلاش ہے جو زبان، قلم اور تلوار سے حق پھیلائے، صداقت کا بول بالا کردے اور باطل کی گھمبیر و سیاۃ منحوس گھٹایں دور کر کے آفتاب صدق کا جلوہ دکھا دے، کوی رقص ابلیس نہ رہے باقی ، انسان سکھ چین کا سانس لیتے، ارتقاء کے سفر کو جاری رکھتے منزل کمال کی جانب بڑھے، کہ وجود بشر کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ کمال کے اس نقطے کی جانب بڑھے جو اسکے خالق نے اسکے لئے معین کیا ہے۔ مگر کیسے؟ یہ لباس عظمت وہ کیسے پہن سکتا ہے؟ کہاں سے لائے وہ وسائل جو اسکے لئے وہ لباس مہیا کریں؟ کب ایسے ممکن ہوگا؟ رقص ابلیس کب ختم ہوگا؟ آفتاب صدق کب طلوع ہوگا کہ آج وہ جو ظلم و استبداد کی آہنی سلاخوں کے پیچھے اس کے منتظر ہیں عالمی استکبار کے روز افزوں ظلم سے نجات پا جائیں؟
ہاں وہ صبح آرہی ہے، اسکی نسیم دلپزیر اپنی مترنم موسیقی سے نوید آمد سحرنو دے چکی ہے،وہ جو پندرہ شعبان المعظم کے دن جلوہ فگن ہوا ہولے ہولے، دھیرے دھیرے تمام آفاق کو اپنی آمد کی خبر سنا رہا ہے، قلم کا سکوت و جمود شاید اسی لئے ٹوٹا ہے کہ اب سکوت مرگ سے نجات کا وقت آچکا ہے اور حیات نو کی امید مل چکی ہے، آج بشریت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسرور ہو کیونکہ یہ عید حیات نو ہے، ایک نئے عہد کا آغاز ہے تاریخ انسانی کے ہر دور میں بشریت نے اسکا انتظار کیا ہے، انتظار یوں تو بدتر از مرگ ہے، لیکن انسانیت کا یہ کمال انتظار ہے جو عبادت کا درجہ پاگیا۔ اسی لئے آج انتظار گاہ میں تھکی ماندہ انسانیت دیدہ دل فرش راہ کئے بیٹھی ہے۔

پندرہ شعبان المعظم انقلاب مہدی عجل اللہ فرجہ کے سلسلے میں ایک دعوت فکر ہے، یہ انسانی فکر و عمل سے جمود و
 تعطل کے خاتمے کا دن ہے جب عقل انسانی کمال کے نقطے پر پہنچ جائے گی اور انسانیت کمال حقیقی کوپا لے گی۔
سنو سرد راتوں کی تایکیوں میں چھپ چھپ رونے والوں
مصاب و آلام کی چکیوں میں پسنے والوں
ظلم و استبداد کا شکار ہونے والوں
دن کی روشنی میں استکبار کے منحوس سائے کے سیاہ اندھیروں میں سسکنے والوں

آج اپنی مظلومیت کے خاتمے کی نوید سن لو کہ آج کی نسیم صبح تمھارے درد کے مداوا کا پیغام لائی ہے۔ آفات کی سیاہ دبیز چادر اوڑھے یہ شب دیجور ختم ہونے کو ہے اور وہ صبح طلوع ہونے کو ہے جسکا تمہیں صدیوں سے انتظار تھا۔
آو سب مل کر اس صبح جانفزا کے استقبال کی تیاری کریں، کیونکہ اسکا استقبال در حقیقت صاحب لیلۃ القدر کو خوش آمدید کہنا ہے

آو خود سازی کے تمام دریچے کھول کر مشام جان و ایمان کو تازہ کریں تاکہ پندرہ شعبان المعظم کے اہل ثابت ہوں۔
آو اس نعمت عظمی پر خدائے بزرگ و برتر کے آگے سجدہ ریز ہو کر سجدہ شکر و حمد بجا لائیں

آو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    

Friday, 15 January 2016

احساس برتری کے گمان میں مبتلا کچھ سگ پرستوں کے نام

میں جو ہوں وہ ہوں، میں گاندھی نہیں کہ عدم برداشت پر مبنی ایک فضول سوچ کا پیروکار بنوں، میرے احساسات مجروح ہونگے تو جواب دونگا
میرے خیالات کی ترجمانی کے واسطے کوئی اور نہیں صرف میں ہی ہوں، میرا نطریہ سیدھا اور سادہ ہے، ظلم کسی بھی صورت سامنے آئے روکو، میں تماشہ دیکھ کر مصلح بننے پر ایمان نہیں رکھتا، جب بات گریبانوں اور پگڑیوں تک آجائے تو میں ہرگز ریت میں منہ نہیں دے سکتا، تمہیں میرے نظریات سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، لیکن برتری کا احساس رکھنے کی اجازت نہیں، اور میں کسی صورت یہ گوارہ نہیں کر سکتا کہ شعبدے باز نما سرکس کے بندر جو اپنے حرام الدہر نطریاتی ماں باپ کے بد بو دار اور زہریلے پراپیگنڈے کو جاری رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ان کو پنپنے دوں، تمہیں کیا لگتا ہے ہم پالیسی نہیں سمجھتے؟ کچھ لوگوں کا مشن ہے اپنی بدبو دار سوچ مسلط کرنا جو وہ کرتے آئے اور انکے آگے ہو تم جو مزاحمت کی صورت میں زاتیات اور واہیات کی بحث میں الجھا کر مذاحم کو پسپا کرنے پر تل جاتے ہو، یاد رکھو تمھاری اس ذہنیت کو جاننے کے بعد ہی  میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سوچ و فکر کی جنگ میں لڑنا دونوں محاذوں پر پڑے گا، پراپیگنڈہ کسی بھی محاذ پر ہو جواب ہر طرف سے دینا پڑے گا، جیسا سوال ویسا جواب، کم از کم مجھ سے اب یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اسلاف کی کارکردگی کے نام پر بغض اور تبرے سے بھرے بغض کو علیحدہ علیحدہ دیکھوں، میرے لئے دونوں ایک ہی ہیں، امیر شام کے دور میں منبروں سے تبرا کا معیار ہرگز وہ نہیں ہوتا تھا جو گلی کوچوں اور بازاروں میں ہوتا تھا، مقصدیت دونوں کی ایک ہی ہوتی تھی، اسی طرح آج بھی تمھاری ہزیان گوئی ہو، یا تاریخی سرقہ مقصدیت ایک ہی ہے، اپنے اندر کے احساس برتری کو تقویت دینا، میری ذاتی رائے کے مطابق تاریخ و ادب کے نام پر تم نے جتنے افسانے تراشے انکا جواب دینے کو بہت ہیں، چپ بیٹھنا انکی مجبوری بنا دیا تھا تم نے ایک قسم کی  تہزیب سے لیس سپاہیوں کے آگے کیونکہ جب ان میں سے کوئی بات کرتا تو یہ تہزیب کے ستائے اپنی علمیت جو صرف جاٹوں کی زبان سے لیس ہے سے اسکو اتنی پیچیدگیوں میں الجھا دیتے کہ وہ بیچارہ اپنی عزت بچانے میں ہی بہتری سمجھتا، شب گزشتہ کا سبق تمھارے لئے یوں ضروری تھا کہ تمھاری سوچ کو تمھاری سوچ سے ہی مارا جاوے ، تمھارا ہتھیار ایک دفعہ تم پر اٹھا کر دیکھا جاوے، پگڑی اچھالنا کیا ہوتا ہے یہ تم کو بھی سمجھایا جاوے اور انکو بھی جو خوف کو خود پر طاری رکھتے ہیں یا اسمارٹنیس کے چکر میں چھوٹ دیتے ہیں۔ میں نے کہا میں گاندھی نہیں، نہ ہی سر سید، میں مقلد ہوں ان جوانوں کا جنہوں نے کامل آذادی کو اپنا نصب العین بنایا اور مارے گئے، میرے بہت سے احباب اور اساتذہ کو میری زبان سے کل تکلیف پہنچی، ممکن ہے طریقہ کار سے اختلاف ہو لیکن مجھے اس پر صرف یہ کہنا ہے کہ گلی کے کتے اور محلے کے غنڈے دونوں کو اگنور نہیں کیا جاتا، گلی کے کتے کو کبھی پتھر بھی مارنے پڑتے ہیں، اور محلے کے غنڈے کو کبھی سبق بھی سکھانا پڑتا ہے، احساس برتری کے مارے چند عصبیت پسندوں کو اوقات دکھلانا مقصود تھا اور انکی مجبوری ہے کہ وہ ایک ہی زبان سمجھتے ہیں، تاریخ گواہ ہے جس نے انکو شٹ اپ کال دی اس سے کبھی نہیں الجھے چاہے وہ شمالی جانب سے آئے حملہ آور ہوں یا جنوب سے

میری جنگ سوچ سے ہے جس روپ میں آئے گی اس روپ میں مقابلہ کروں گا، پھر واضح کردوں کسی قوم یا زبان سے نہیں ایک سوچ سے جنگ ہے جو جاری رہے گی

Wednesday, 25 March 2015

کیونکہ تمھاری زبان، عقل اور نیت سب ہی گندی ہیں

انگریز چلے گئے لیکن اپنے پیچھے انھیں چھوڑ گئے جنھہوں نے نہ تو تحریک پاکستان میں حصہ لیا نہ ہی تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کو سپورٹ کیا، تاریخ پڑھ لیجئے موجودہ پاکستان کے کس حصے نے مسلم لیگ کے خلاف ووٹ ڈالے تھے 1946 میں ، ساتھ ہی ان کالے انگریزوں میں اپنا "تقسیم کرو اور حکومت کرو" والا فارمولہ چھوڑ گئے جسے ان کالے انگریزوں نے بخوبی استعمال کیا اور پاکستان میں موجود تقریبا تمام قومیتوں کا خوب استحصال کیا
جس کی گواہ پاکستان کی تاریخ ہے۔ خیر بات کرتے ہیں سیدھا کراچی کی، نجانے آنکھ کا کون سا اینگل ہے جس سے کراچی اور کراچی والوں کو دیکھا جاتا رہا ہے، آج لوگ پھبتی کستے ہیں کہ یہ "مہاجر" کیا ہوتا ہے؟ اردو بولنے والے خود کو مہاجر کیسے کہ سکتے ہیں؟، ایم کیو ایم اور الطاف حسین پاکستانیوں میں لفظ مہاجر کی بنیاد پر تفریق پیدا کر رہے ہیں، ان عقل کے اندھوں نے یا تو تاریخ نہیں پڑھی یا پھر جان بوجھ کر اپنے بغض کو عیاں کرنے کے واسطے اس سے نظر ہٹا لیتے ہیں،


 آئیے 1965 میں چلتے ہیں جب فوجی صدر کی فتح کے جشن میں صرف اردو بولنے والی آبادیوں کو چھلینی کیا گیا، کیا اس وقت ایم کیو ایم تھی؟ 1972 میں چلیں جب سندھی زبان کا بل پاس ہونے پر ایک دفعہ پھر اردو بولنے والی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا، کیا اس وقت بھی ایم کیو ایم تھی؟ کیا اس وقت اردو بولنے والوں کو مہاجر کہ کر انکی آبادیوں کو تاراج نہیں کیا گیا؟
آئیے 1985 کا سفر کریں جب ایک بس حادثے میں طالبہ کی موت کے بعد اردو جو فسادات پھوٹے ان میں بھی ٹارگیٹ اردو بولنے والوں کو کیا گیا اور مہاجر اس وقت بھی کہا گیا، یاد رہے کہ اس وقت حالات ایسے خراب ہوئے تھے کہ فوج کو کراچی میں کرفیو لگانا پڑا، اب پھر وہی سوال کیا اس وقت بھی ایم کیو ایم تھی؟ کیا مہاجر کا نعرہ ان دنوں بھی ایم کیو ایم نے 
بلند کیا؟


جب آپ ایک مخصوص آبادی کو ایک مخصوص نام کے ساتھ نشانہ بناو تو اسوقت تفریق نہیں ہاں جب وہ لوگ آپ کا ہی دیا نام قبول کر لیں تو تفریق شروع، کمال کی نگاہ ہے آپکی۔

شرم آنی چاہئے انکو جو ایم کیو ایم کا سیاسی نظریہ جانے بغیر صرف اپنے اندر کا زہر باہر نکالنے کی خاطر الطاف حسین کی شکل و صورت یا پھر انکے انداز خطابت کا مزاق اڑاتے ہوئے ایم کیو ایم کی پوری سیاسی جدو جہد سے نظر ہٹا لیتے ہیں، کالے انگریز تنقید کریں سیاسی بنیادوں پر، سیاسی فلسفہ پر، سیاسی عمل پر قبول ہوگا، ذاتیات پر حملہ کرکے آپ ثابت کرتے ہیں کہ آپ کو بس الطاف فوبیا اور بغض کراچی ہے، قصور اپکا بھی نہیں آپکو جو دکھایا گیا اور جو سنایا گیا اس پر آپ ایمان لے آئے بس تصدیق نہیں کی۔ 

چلیں مجھے ایک سیاسی لیڈر کا نام بتا دیں جس کے پاس ملک کی ایک اکثریت کا ووٹ ہو اور وہ خود کبھی بھی کسی سیٹ یا عہدے کا امیدوار نا بنا ہو، ڈھوند لیں نطر الطاف حسین پر ہی ٹکے گی

مجھے ایک سیاسی پارٹی کا نام بتا دیں جس نے اسمبلیوں میں اپنے کارکنان کو بھیجا ہو سرمایہ کی بنیاد پر ٹکٹ فروخت نہ کی ہو، ڈھونڈ لیں نظر الطاف حسین پر ہی ٹکے گی۔

مجھے ایک سیاسی پارٹی کا نام بتا دیں جس نے بنگلہ دیش کے محصورین کا مسئلہ مستقل اٹھا رکھا ہو کہ وہ جو سقوط ڈھاکہ کے وقت پاکستانی رہنے کو ترجیح دیئے رہے انکو پاکستان میں اباد کیا جائے، نظر دورا لیں صرف الطاف حسین اور ایم کیو ایم ہی دکھے گی۔

ایم کیو ایم پر ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ جی کراچی میں بھتہ لیتے ہیں یہ ایم کیو ایم والے، اول تو ایک بات صاف کرلیں آپ کے فرشتے یعنی رینجرز ہی تسلیم کر چکے ہیں کہ بھتے کی کاروائیوں میں کالعدم تنظیمیں مصروف ہین لیکن بھلا ہو کالے انگریزوں کے ان کالے گماشتوں کا جو صحافی کے روپ میں زہر پھیلانے میں مشغول رہے ہیں کہ وہ ایسی خبریں اپنی کالی انگریز غلام قوم تک پہنچنے ہی نہیں دیتے اگر پہنچ بھی جائیں تو اخبار میں اندر کے صفحات اور ٹی وی پر نان پرائم تائم کی خبروں کا حصہ بنا دیتے ہیں، اب بات کریں آپ کے مطابق چلیں مان لیا سارا بھتا ایم کیو ایم لیتی ہے جس سے ملک کی معیشت کو نقصان ہوتا ہے کتنا ہوتا ہے آئیے حساب لگاتے ہیں

کالے بجٹ کے مطابق کراچی میں 20 ملین کا بھتہ لیا جاتا ہے اور رینجرز کے مطابق 10 ملین کا یہ تو ہوگیا آپ کے مطابق ایم کیو ایم کا ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے میں حصہ اب آئیۓ ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے دیگر عوامل دیکھتے ہیں اور سیدھا ان عوامل کو دیکھتے ہیں جو ہمیشہ ایم کیو ایم کے خلاف بات کرتے ہیں 

لاہور ہائیکورٹ کے مطابق ایک ریٹائرڈ ائر مارشل نے  40 پرانے میراج جنگجوؤں کی خریداری میں رشوت کے طور پر 180 ملین وصول کئے تھے
سوال 20 ملین زیادہ یا 180 ملین؟

آگے چلتے ہیں 
فوج کیلئے خریدی گئی جیپز کے سودے میں 510 ملین کا گھپلا کیا گیا سینئر فوجی افسران کی جانب سے، یہ میں نہیں کہ رہا آپکا قومی احتساب بیورو کہ رہا ہے
بتائیے 20 ملین زیادہ یا پھر 510 ملین؟

آگے چلیں 
 ایک سابق فوجی حکومت نے  کھاد فروختکا معاہدہ کیا7 بلین میں اور اس کے عوض 2 بلین کمیشن وصول کیا

بتائیے 20 ملین زیادہ یا پھر 2 بلین؟
.یہ ہیں فرشتے ، یہ معیشت کو نقصان پہنچانے کا حق رکھتے ہیں کوئی اور پہنچائے تو ملک دشمن رسما یہ بھی جان لیجئے کہ پاکستانی فوج کا  پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں سب سے بڑا حصہ ہے. یہ کمرشل بینک، ایئر لائن، سٹیل، سیمنٹ، ٹیلی کام پٹرولیم اور توانائی، تعلیم، کھیلوں، صحت کی دیکھ بھال اور گروسری کی دکانوں اور بیکریوں کی چینز تک  چلاتی ہے.
مختصر یہ کہ  فوج کی اجارہ داری پاکستان معیشت کے ہر شعبے میں موجود ہے.اسکے  برعکس، پیشہ ور سطح پر اس کی کارکردگی صفر ہے.  بجائے اس کی کہ یہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کرے ، دنیا میں ساتویں سب سے بڑی فوج کے طور پرجانے جانی والی فوج صرف کارگل اور ڈھاکہ کی جنگ شعبوں میں قوم کو شرمندگی ہی دلائی ہے 

اب فرشتوں کا ذکر چھوڑ کر کالے بجٹ کی ہی بات کرتے ہین جس کے مطابق کراچی میں 20 ملین کا بھتہ لیا جاتا ہے اسی رپورٹ میں کچھ اور انکشاف بھی ہیں 

اس رپورٹ کے مطابق کراچی کے کالے دھندے میں سب سے بڑا حصہ پولیس مافیا کا ہے جو یقیننا ایم کیو ایم سے تعلق نہیں رکھتی، اسکے خلاف آپریشن کا انتظار رہے گا، دوسرے نمبر پر حصہ ہے قبضہ مافیا کا جس کی اکثریت غیر اردو بولنے والے غیر مقامیوں پر مشتمل ہے، تیسرا برا حصہ ہے جوے کے اڈوں کا جس کے بارے میدیا نے اکثر رپورٹ کیا ہے کہ اس کاروبار میں رینجرز ملوث ہیں، انکے خلاف بھی آپریشن کا انتظار رہے گا، چوتھا بڑا حصہ ہے پانی مافیا کا ایک دفعہ پھر کراچی میں میں ہائیڈرنٹس کا کاروبار آفیشلی پاکستان رینجرز کے پاس ہے انکے خلاف بھی آپریشن کا انتظار رہے گا
باقی تفصیلات آپکے سامنے ہیں 


اگر ملکی معیشت کو بچانے کے واسطے کراچی آپریشن ضروری ہے ان سب مافیاوں کے خلاف بھی آپریشن کی ڈیمانڈ کرو 
کیونکہ بھتا تو اس کاروبار کا 3 فیصد بھی نہیں

آخر میں لوگ بات کرتے ہیں کہ جی کراچی میں بوری میں بند لعشیں ملتی ہیں تو ذرا تفصیل جان لیجئے بوری میں لعشیں فوجی آپریشن کے دور میں ملی تھیں اور مماثلت جاننی ہو تو بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران جو مسخ شدہ لعشیں ملتی 
رہتی ہیں ، ان سے جان لیجئے کہ ایسے لعشیں پھینکے کا رحجان کس کا ہے

امید ہے ان چیدہ چہدہ تفصیلات کے بعد کالے انگریز جرمن قوم کی طرح اپنے احساس تفاخر سے باہر آکر پاکستانی بن کر سوچیں گے اگر نہ بھی سوچیں تو فرق کیا پڑے گا؟ تاریخ شاہد ہے تم نے جب بھی کسی لسانی اکائی کو دبانے کی کوشش کی منہ کی ہی کھائی ہے اور کھاتے رہو گے کیونکہ تمھاری زبان، عقل اور نیت سب ہی گندی ہیں

ہو چکی خاک و خون کی ہولی
اے کراچی آ تجھے گلاب کریں
آگ جس نے لگائی گلشن کو
آو اب اسکا احتساب کریں
نوٹ: یہ بھی واضح کردوں کہ نہ تو میں کبھی ایم کیو ایم کا کارکن کا رہا ہوں ، نہ ہی اسکا حصہ ، بلکہ نہت ساری سیاسی پالیسیز پر ایم کیو ایم کا نقاد بھی رہا ہوں لیکن ایک انسان ہونے کی حیثیت سے تعصبی نطر رکھنے والوں کی آنکھیں کھولنا ضروری ہیں۔

Wednesday, 13 August 2014

ایک فیس بک اسٹیٹس اپڈیٹ


  "پاکستان: فوج اور ملاوں کے درمیان"
اس کتاب کے مطالعے کے دوران ایک دلچسپ لیکن تکلیف دہ سچائی سامنے آئی جو مجھ سمیت بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں موجود ہوگی بس زرا نظر کرنے کی دیر ہے،یہ کتاب پاکستان میں جاری ایک بھیاناک کھیل کو سمجھنے کے لئے اچھا حوالہ ہو سکتی ہے جس کے ذریعے پاکستان کو مفلوج بنایا جاتا رہا ھے اور اگر یہی حالات رہے تو شاید یہی عمل جاری بھی رہے۔  کتاب میں ایک واقعہ درج ہے، شاید سانحہ ہو لیکن ہمارے احساسات اسے واقعہ ہی سمجھ لیں تو بڑی بات ہے،
"بنگلہ دیش بننے سے پہلے صدر مملکت پاکستان جناب جنرل یحییٰ خان ناراض شیخ مجیب سے آخری دفعہ ملے تو مصنف لکھتا ہے،
" جب جنرل یحییٰ نے عوامی لیگ کے رہنماوں کا استقبال کیا تو انہوں نے ہاتھ میں وہسکی کا ایک بڑا گلاس تھام رکھا تھا- انہوں نے شیخ مجیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا –" اپنے لڑکوں سے کہہ دو انہیں فوج کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم سب کو چاہیئے کہ اسلام کی شان و شوکت اور پاکستان کی سالمیت کے لئے مل کر کام کریں"
دیکھنے اور سننے والے ششدر رہ گئے کہ ہاتھ میں وہسکی کا گلاس تھام کر خدمت اسلام کی ترغیب دی جا رہی تھی، حالانکہ اسلام میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے"۔
میں چاہوں گا کہ اس واقعے کے دیگر پہلووں کے ساتھ اس پہلو پر بھی نظر کی جائے کہ پاکستان کی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ یہاں نفاذ اسلام کی زیادہ تر بات ان ہی لوگوں نے کی جو کھلم کھلا شعائر اسلام کا مزاق اراتے رہے، اور افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ نطریاتی سرحدوں کے نام پر اسلام کو بلیک میلنگ ٹول بنایا جاتا رہا اور بنایا جا رہا ہے اور ہم میں سے بیشتر افراد اس کا شکار بھی ہوتے رہے، ہو رہے ہیں اور شاید ہوتے رہیں۔ اور اب ہم اس عمل کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ معاشرتی سے لے کر ذاتی زندگی تک ہر جگہ ہمیں جہاں جہاں موقع ملتا ہے ہم اس عمل کا خود بھی حصہ بن جاتے ہیں۔
وطن عزیز کے حال کو ہی دیکھ لیجئے جہان آج کل ایک کینیڈا پلٹ دیوانے نے ہا ہا کار مچا رکھی اور حیرت یہ ہے کہ اس کے ساتھ بھی عوام ہے، موصوف کا طریقہ واردات بھی کم و بیش جنرل یحییٰ والا ہے،  آج کل کچھ لوگ جو کھل کر "ریٹائر پادری" صاحب کی حمایت نہیں کر سکتے وہ بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کو بھی آزما لیتے ہیں غالبا صادق اور امین کی شرط پر ضد کرنے والے پادری صاحب کے نعرے متاثر کن ہوں لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے حافظے یہ بات بھول گئے کہ صادق اور امین کی شرائط پر پادری صاحب خود اس وقت پورے نہیں اتر پائے تھے جب یہ لاہور ہائی کورٹ سے اقدام قتل کا مقدمہ جھوٹا ہونے کے خوف سے فرار ہو گئے تھے، ہم لوگ کتنے بھولے ہوتے جا رہے ہیں۔
اور شاید یہی فلسفہ ہے جو ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی منافقت گھول رہا ہے، یقین نہٰیں آتا تو ذرا ہم سب اپنے اپنے فیس بک جھانک لیتے ہیں ، مجھ سمیت بہت سے افراد کی والز پر ایسی اسٹیٹس اپڈیٹس نظر آئیں گے جو قرآنی آیات ، حدیث، قول امام یا پھر کسی بزرگ دین کے فرامین پر مشتمل ہونگے ، چاہے ہماری ذاتی زندگی میں دین ہو نا ہو جو بھی چیز ہمیں اپنے ذاتی خیال سے ہم آہنگ لگے گی، کہ یہ فرمان میرے موجودہ موقف کی حمایت کرتا ہے ہم لمحات میں اسے شئر کر دیں گے۔
پتا نہیں ہم کہاں جا رہے ہیں، پتا نہیں ہم کہاں جائیں گے۔
پاکستان میں واقعی انقلاب کی ضرورت ہے، سڑکوں پر نہیں فکر میں
کاش کہ یہ انقلاب آجائے اور ہم جاگ جایئں۔۔۔۔۔۔ کاش
علی مسعود
13 اگست 2014

Monday, 30 September 2013

امن کی آشا اور بھارتی بھاشا

سیانے سچ کہتے ہیں بنیا ،بنیا ہوتا ہے نا اس کی عادت بدلتی ہے نا فطرت نہ ہی اس کا بغض مرتا ہے۔
آج کل انڈیا اور پاکستان کے مابین امن کی آشا تلاش کی جا رہی ہے اور آشا ہے کہ پوری نہ ہونے کی قسم کھائے بیٹھی ہے، اور بیٹھنا بنتا بھی ہے کیونکہ آشایئں تب ہی پوری ہوتی ہیں جب نیتیں صاف ہوں اور یہاں تو صاف کیا نیت تک کا نام و نشان ناپید ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ امن کی آشا کے بیچ ایک بھارتی "نمونے" نما "چیز" نے کیا۔
جانے وہ کون سی مجبوریاں ہیں جو اس ڈرامے کو رچانےپر مائل ہیں ، جب وہاں سے بات ہو رہی ہے کہ ہمیں پاکستانیوں کی ضرورت نہیں تو صحیح ہے ان کی بات مان لو حرج کیا ہے؟
پاکستان کی آزادی سے اب تک جو بھی بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے ساتھ کیا ہے وہ تجربہ کافی نہیں؟
کشمیر سے سیاچن تک، اگرتلہ سے بنگلہ دیش تک، پانی سے بلوچستان تک، سمجھوتہ ایکسپریس سے دوستی بس تک بھارتی کیا ثابت کرتے رہے ہیں؟
مگر کیا کریں جی ہم ٹہرے غلام ابن غلام ابن غلام، آقا نے کہا دوستی کرو ہم نے کہا حاضر جناب مگر یہ کہنا بھول گئے کہ جناب والا جس ھاتھ سے ھاتھ ملانا ھے پہلے وہ تو لے آئیں، یہ اکیلا ھاتھ کسی کو مکا تہ مار سکتا ہے مصافحہ کیلئے بنییے کا ماننا ضروری ہے۔
بنئے کو کیا چاہئے پاکستان کی منڈی تک رسائی بس؟
وہ تو ویسے بھی مل رہی ہے اب کیا؟
امن کی آشا کے نام پر مزاق کو اب بند ہونا چاہئیے ، کیونکہ اس امن کی آشا سے امن آئے نہ آئے نفرتیں ضرور بڑھیں گی۔


Aman ki asha Sheikh Rasheed Reply by hotspotpakistan

Saturday, 27 April 2013

M.Ahad: Marketing techniques

M.Ahad: Marketing techniques: A marketing strategy is an overall marketing plan designed to meet the needs and requirements of customers. The plan should be based on ...