Translate

Sunday, 1 July 2012

شیعہ ووٹ شیعہ امیدوار کیلئے، سیاسی نعرہ، مزاق یا المیہ؟

مینار پاکستان پر پکوڑوں کی دکان پھر سج گئی
لسانیت، صوبائیت کے بعد فرقہ ورانہ مداری میدان میں آگئے۔
ڈھول بجنے لگے اور عیارون کی عیاری اپنے پورے جوبن کے ساتھ ناچ اٹھی۔
قرآن اور سنت کے نام پر وحشی درندے جزباتی بٹیروں کا شکار کھیلنے لگے
ہا ہا ہا
اب یہ نعرہ کہ شیعہ ووٹ صرف شیعہ کیلئے
سوچا جواب کیا ہو سکتا ہے؟
شیعہ ووٹ اگر شیعہ کیلئے تو سنی ووٹ کیا سیاسی مداریوں کیلئے
کس کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
فائدہ کس کا نقصان کس کا سوچئے
تازہ ترین مردم شماری کے مطابق پاکستان میں شیعوں کی تعداد 17 ملین ہے
 جس میں سےووٹ ڈالنے والوں کی تعداد کتنی ہوگی؟
الیکشن کمیشن کی سائٹ پر دیکھ لیں
جس ملک میں 30 فیصد سے زائد رکن پارلیمان بغیر شیعہ ووٹ کے  نعرے کے منتخب کئے جاتے ہوں
جبکہ شیعوں کی تعداد 10 فیصد بھی نہیں
سوچئے جب آپ شیعہ ووٹ کی تقسیم کی بات کریں گے تو آپ 10 فیصد نشستوں کی بات کرتے ہیں
سودا کون سا سستا ہے کون سا مہنگا
شیعہ بھی عجیب جزباتی ہیں معصومین کی احادیث موجود ہیں کہ قرآن و سنت کے نام پر لوگ تمہیں بے وقوف بنایئں گے
دیکھ لیں نام قرآن و سنت کانفرنس نعرہ سیاسی
اور یہ جزباتی پھر بے وقوف بن رہے ہیں
جو ان کے خلاف بولے وہ دشمن کا ایجنٹ
لگے رہو منا بھائی 
مگر یہ سوچ لو کہ یہ فرقہ وارانہ تقسیم قوم کو فائدہ پہنچائے گی یا نقصان؟

سوچو ضرور 

کربلہ میں شہادتیں اس لئے نہیں دی گئی تھیں کہ کربلا کہ نام پر راجہ ناصر جیسے مفسد تمہیں بے وقوف بنائیں


مزاق کو سمجھو

المیہ گزر رہا ہے


اسے روکو ورنہ یاد رکھو کہ یہ سیاسی ملا ایران جہاز سے جاتے ہیں تم کوئٹہ والے راستے سے